داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ اور ایک انگریز کا سچا واقع۔
داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ اور ایک انگریز کا سچا واقع۔
اس واقع سے اولیاء کرام پر آپ کا یقین بھی پکا ہو گا در حقیقت ولی اللہ جو بھی کرتا ہے اللہ کے حکم سے ہی کرتا ہے اور اللہ پاک کو راضی کرنے کے لیے ہی کرتا ہے...
اب میں واقعے کی طرف آتا ہوں ویسے بھی یہ بہت مشہور معروف واقع ہے...
کہتے ہیں ایک انگریز جو یورپ کا رہنے والا تھا اس نے اسلام پر ریسرچ کرنا شروع کی اور اس کی خوش قسمتی یہ کہ اس نے اسلام بھی قبول کر لیا مزید اسلامی تعلیمات کے لیے اس نے پاکستان کا رخ کیا اور وہ علیحدہ علیحدہ مسالک کے پاس گیا اسلام کی تعلیمات کے لیے....ایک دن وہ انگریز قرآن کا مطالعہ کر رہا تھا تو اسکی نظروں سے حضرت سلیمان علیہ السلام والا واقع گزرا جس میں جس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک ماننے والا پلک جھپکنے میں تخت بلقیس لے آتا ہے....کہا جاتا ہے کہ تخت بلقیس کی لمبائی اور چوڑائی 80 فٹ تھی جو کہ پلک جھپکنے کے دورانیے میں حاضر کر دیا گیا تھا (حضرت سلیمان علیہ السّلام اور تخت بلقیس والا واقع تو سب کو پتہ ہی ہو گا اگر نہیں پتہ تو وہ پھر کبھی تحریر کر دوں گا)
جب انگریز نے قرآن سے یہ واقع پڑھا تو اسے ہضم نہ ہوا کے یہ کیسے ممکن ہے....یہ ہو ہی نہیں سکتا اس نے اس متعلق بہت سے علماء سے رابطہ کیا جو اسے مطمئن نہ کر سکے جن لوگوں سے وہ اسلامی تعلیمات سیکھ رہا تھا ان کے ساتھ لاہور میں محو سفر تھا تو اسکی نظر حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ (المعروف داتا دربار) کے دربار پر پڑی....یا یوں کہہ لیں کہ داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ کی نظر کرم اس پر ہو گئی....
اور اس انگریز نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے کس کا دربار بنا ہوا ہے تو انہوں نے آئیں بائیں شائیں کر دیا اور کوئی مناسب جواب ناں دیا اور کہہ دیا کہ یہ شرک اور بدعت کا اڈہ ہے یہ ٹھیک مسلمان نہیں ہیں....اس نے کہا ٹھیک مسلمانوں نہیں ہیں یہ اور تم ٹھیک ہو جب تک میں ان لوگوں کا تجزیہ نہیں کر لیتا کوئی رائے قائم نہیں کرونگا....
اور انگریز کے زہن اور دماغ میں ابھی تک تخت بلقیس والا واقع بھی گردش کر رہا تھا جس کا تاحال جواب ناں مل سکا تھا....
اس نے کہا کہ میں اندر جا کر دیکھنا چاہتا ہوں کہ یہ کیسے مسلمان ہیں اس نے ارادہ کیا اور داتا دربار کی طرف چل دیا (اگر آپ داتا دربار گئے ہیں تو وہاں جو مین دروازہ ہے جو کہ سونے کا ہے) اس دروازے سے جب وہ اندر داخل ہونے لگا تو ایک بزرگ نے اس کو روک لیا اور اسے لے کر سیڑھیوں میں ھی بیٹھ گئے اور کہا کہ آپ ہمارے مہمان ہو تھوڑی مہمان نوازی کا موقع تو دو یہ کہہ کر ایک جانب ہاتھ کیا اور ایک چائے کا کپ اس انگریز کے ہاتھ میں تھما دیا جب اس نے کپ کو دیکھا تو وہ وہیں بے ہوش ہو کر گر گیا....جب ہوش آیا تو اسکے ساتھی جو شرک اور بدعت کے فتوے لگاتے تھے انہوں نے اس سے بے ہوش ہونے کی وجہ پوچھی تو اس نے پہلے ان بزرگ کے بارے دریافت کیا تو انہوں نے کہا وہ تو جا چُکے ہیں اس نے پوچھا کہاں گئے انہوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے....پھر اسکے ساتھیوں نے بے ہوش ہونے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ ان بزرگوں نے جو کپ مجھے چائے کے لیے پیش کیا تھا وہ میرا ذاتی کپ تھا جسمیں میں چائے پیتا تھا اور وہ کپ یہاں سے ہزاروں میل دور تھا میرے گھر میں.....
گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نور خدا
نا قصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما
اس انگریز نے کہا کہ مجھے سمجھ آگئی ہے کہ تخت بلقیس کیسے آیا۔
کہتے ہیں پھر اس نے اپنی ساری زندگی داتا دربار ہی گزاری
ور اس انگریز کی قبر بھی داتا دربار کے احاطے میں واقع ہے
https://youtube.com/channel/UC_hmzvnRcyaDVAKiEuqT-hw ۔
https://www.facebook.com/COLLECTIONAWAN/